Kash Main Andhi Hoti by Maryam Shoaib
₨2,000
Description
Kash Main Andhi Hoti by Maryam Shoaib
Kash Main Andhi Hoti
Author Maryam Shoaib
Genre: Novel
About Book
“کاش میں اندھی ہوتی” ایک جذباتی اور معاشرتی اردو ناول ہے جو محبت، رشتوں، قربانی، غلط فہمیوں اور اندرونی ٹوٹ پھوٹ جیسے گہرے احساسات کو بیان کرتا ہے۔ یہ کہانی ایک ایسی لڑکی کی زندگی کے گرد گھومتی ہے جو اپنے جذبات، خاندان، حالات اور خاموش درد کے درمیان الجھی ہوئی ہے۔ ناول میں انسانی احساسات، خاندانی دباؤ، دل کی بے آواز تکلیف اور رشتوں کی پیچیدگی کو نہایت خوبصورتی اور حقیقت کے قریب انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ ان بے شمار دلوں کی آواز ہے جو بہت کچھ محسوس کرتے ہیں مگر سب کچھ کہہ نہیں پاتے۔
About Author
مریم شعیب ایک اردو رائٹر ہیں جو جذباتی، معاشرتی اور حقیقت کے قریب کہانیاں لکھنا پسند کرتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں احساسات کی گہرائی، رشتوں کی نزاکت اور انسانی جذبات کی خوبصورت عکاسی نمایاں طور پر محسوس کی جا سکتی ہے۔ مریم شعیب کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ اپنے الفاظ کے ذریعے اُن احساسات اور خاموش تکلیفوں کو بیان کریں جنہیں لوگ محسوس تو کرتے ہیں مگر آسانی سے لفظ نہیں دے پاتے۔ ان کی تحریریں قاری کے دل سے جڑنے اور دیر تک اثر چھوڑنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
@mar_yam shoaib


Lal Sajjad Zehri –
مریم شعیب کی یہ تصنیف فکری پختگی اور جذباتی گہرائی کا حسین امتزاج پیش کرتی ہے۔ مصنفہ نے نہایت مہارت سے انسانی احساسات، رشتوں کی پیچیدگی اور باطنی کشمکش کو لفظوں کا روپ دیا ہے۔ اسلوب شستہ، رواں اور مؤثر ہے جو قاری کو ابتدا سے آخر تک اپنے سحر میں جکڑے رکھتا ہے۔ یہ محض ایک کہانی نہیں بلکہ احساسات کی عکاسی ہے جو دیر تک دل میں گونجتی رہتی ہے۔ ایک اعلیٰ معیار کی ادبی کاوش۔
مریم شعیب کی تحریر میں سادگی کے ساتھ ایک خاص گہرائی پائی جاتی ہے جو قاری کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔ انہوں نے نہایت خوبصورتی سے جذبات کی ترجمانی کرتے ہوئے رشتوں کے نشیب و فراز کو حقیقت کے قریب تر انداز میں پیش کیا ہے۔ اس کتاب کا اسلوب نہایت دلنشین اور اثر انگیز ہے، جو پڑھنے والے کو سوچنے پر مجبور کر دیتا ہے۔ یقیناً یہ ایک قابلِ قدر اور یادگار مطالعہ ہے۔
Bibi Hani –
“کاش میں اندھی ہوتی” دل کے اُن گوشوں تک پہنچتی ہے جہاں عام الفاظ رسائی نہیں رکھتے۔
یہ ناول ایک خاموش درد کی کہانی ہے — وہ درد جو چیخ کر بھی سنائی نہیں دیتا۔ ہر صفحہ ایک احساس ہے، ہر جملہ ایک زخم، اور ہر منظر ایک آئینہ جس میں قاری خود کو دیکھنے لگتا ہے۔
مریم شعیب کی سب سے بڑی طاقت ان کی سادگی میں چھپی گہرائی ہے۔ وہ مشکل الفاظ کے بغیر، سیدھے دل پر اثر کرتی ہیں۔ وہ اُن جذبات کو بیان کرتی ہیں جنہیں لوگ برسوں محسوس کرتے ہیں مگر کبھی بیان نہیں کر پاتے۔
یہ کتاب صرف پڑھی نہیں جاتی…
یہ محسوس کی جاتی ہے۔
✨ اگر آپ نے کبھی خاموشی میں درد جھیلا ہے، اگر آپ نے کبھی بغیر کہے سب کچھ سہہ لیا ہے — تو یہ ناول آپ کی کہانی ہے۔